سری نگر ، 25؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) آرٹیکل ۳۷۰؍ کو منسوخ کرتے ہوئے جموں کشمیر کاخصوصی درجہ ختم کرنے اوراسے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کرتے ہوئے اسے ۳؍ حصوں میں تقسیم کردینے کے بعد اتوار کو وزیراعظم نریندر مودی پہلے اہم دورے میں یہاں پہنچے۔اس دوران انہوں نے جہاں ریاست کیلئے ۲۰؍ ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا وہیں نوجوانوں سے بہترمستقبل کا وعدہ کیا اور کہا کہ انہیں ان دشواریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جن کا سامنا ان کے والدین نےکیا۔
وزیر اعظم نے تقریر کے دوران کہا کہ جموں کشمیر میں جمہوریت اور ترقیاتی منصوبے اب جڑوں تک پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ذرائع آمدورفت اور بجلی سے متعلق ۲۰؍ ہزار روپے کے پروجیکٹوں کا آج افتتاح ہو ا ہے۔اس کا مقصد جموں کشمیر کی ترقی کی رفتار کو مہمیز دینا ہے۔ مرکز کے اس زیر انتظام علاقے میں متعدد ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔‘‘ انہوں نے سامبا ضلع کی پلی پنچایت سے خطاب کرتےہوئے یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جمہوریت ہویا ترقی، جموں کشمیر آج نئی مثالیں قائم کررہاہے۔ گزشتہ ۲؍ سے ۳؍ برسوں میں جموں کشمیر میں ترقی کی نئی جہتیں قائم ہوئی ہیں۔ وہ جب پلی پنچایت سے خطاب کررہے تھے توملک بھر کی پنچایتوں کو بھی آن لائن جوڑ دیاگیاتھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’’یہ تبدیلی کی علامت ہے کہ اس سال پنچایتی راج دن جموں کشمیر میں منایا جارہاہے۔ یہ باعث افتخار ہے کہ میں جموں کشمیر سے ملک بھر کی پنچایتی راج اکائیوں سے خطاب کررہاہوں کیوں کہ یہاں جمہوریت اب جڑوں تک پہنچ چکی ہے۔‘‘ انہوں نے آرٹیکل ۳۷۰؍ کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر میں نافذ ہونے والے ان ہندوستانی قوانین کا حوالہ بھی دیا جو ریاست کے خصوسی درجہ کی وجہ سے پہلے یہاں نافذ نہیں ہوسکتے تھے۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ مرکزی اسکیمیں اب جموں کشمیر میں زیادہ تیزی سے نافذ ہورہی ہیں۔ جموں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے وادی کے نوجوانوں سے جڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے امن اور ترقیاتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوانوں کو بہتر مستقبل کا خواب دکھایا اور یقین دہانی کرائی کہ انہیں وہ سب نہیں برداشت کرنا پڑے گا جو ان کے والد اور دادا کو برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وادی کےنوجوانوں، آپ کے دادادادی، نانا نانی اور ماں باپ نے پریشانی کی زندگی گزاری مگر میرے نوجوانوں تمہیں ایسی پریشانی کی زندگی نہیں گزارنی پڑےگی۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔‘‘انہوں نے امید ظاہر کی کہ جن پروجیکٹوں کا افتتاح کیاگیا ہے یا سنگ بنیاد رکھا گیاہے ان سے جموں کشمیر میں روزگار کے مواقع بڑی تعداد میں پیدا ہوں گے جس سے علاقے میں خوشحالی آئے گی۔اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے ۳۱۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کردہ بانیہال قاضی گنڈ روڈ ٹنل کا افتتاح کیا جس کی کل لمبائی۸ء۴۵؍ کلومیٹر ہے۔ اس سرنگ سے بانیہال اور قاضی گنڈ کے درمیان سڑک کے ذریعے فاصلہ۱۶؍ کلومیٹر کم ہو جائے گا اور سفر کا وقت تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک کم ہو جائے گا۔ یہ سرنگ دوہری ٹیوبوں پر مشتمل ہے جو دیکھ بھال اور ہنگامی انخلاء کے لیے ہیں اور ہر۵۰۰؍ میٹر پر ایک کراس مارگ کے ذریعے آپس میں جوڑا گیا ہے۔ مودی نے۷۵۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے کے تین سڑک پیکیجوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ اس کے ساتھ ہی رتلے اور کوار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ ان منصوبوں کے تحت کشتواڑ ضلع میں دریائے چناب پر تقریباً۵؍ ہزار ۳۰۰؍ کروڑ روپے کی لاگت سے۸۵۰؍ میگاواٹ کا رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ تعمیر کیا جائیگا۔